گام[1]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ایڑھی سے انگوٹھے تک کی لمبائی، پانو کی لمبائی۔  چشم براہِ قدوم حشر ہے ہے یہ نقشہ تیرے نقشِ گام کا    ( ١٨٩٥ء، دیوانِ راسخ دہلوی، ٥٢ ) ٢ - چلتے وقت دونوں پانو کے درمیان کا فاصلہ؛ مراد: آدھ گز کا فاصلہ۔  جانے کس گام پر سب الگ ہو گئے سچ کا جنگل ہے چاروں طرف اور میں    ( ١٩٨٣ء، سرو سامان، ٥١٢ ) ٣ - گھوڑے کی ایک چال، ہلکی رفتار۔ "پہلے گام پھر دلکی پھر سرپٹ اور اب تو اکسپرس . میں اڑے چلے جارہے ہیں۔"      ( ١٨٩٤ء، لکچروں کا مجموعہ، ٦٠١:١ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٣ء کو "دیوان فائز دہلوی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - گھوڑے کی ایک چال، ہلکی رفتار۔ "پہلے گام پھر دلکی پھر سرپٹ اور اب تو اکسپرس . میں اڑے چلے جارہے ہیں۔"      ( ١٨٩٤ء، لکچروں کا مجموعہ، ٦٠١:١ )

جنس: مذکر